سیب کے فائدے اردو میں

سیب کے فائدے اردو میں

سیب کے فائدے اردو میں

قدرت کی پیدا کردہ بیش بہا نعمتوں میں سے پھل قدرت کی وہ انمول صحت بخش نعمت ہیں جن سے انکار ممکن نہیں۔مسلسل 
تجربات سے یہ حقیقت سامنے آچکی ہے کہ پھل وبائی امراض کے خلاف ڈھال کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور جسمانی قوت مدافعت میں اضافے کا ذریعہ ہیں۔پھلوں کی غذائیت میں بیماریوں سے شفا حاصل کرنے کی وہ مخفی قوت موجود ہے 'جس کا حصول کسی اور ذریعہ سے ممکن نہیں۔پھلوں کی مٹھاس پیاس'بھوک مٹانے کا شیریں ذریعہ ہے اور بات ہو خوش ذائقہ صحت بخش پھلوں کی تو ذہن میں سب سے پہلے "سیب" کا نام ضرور آتا ہے جس کے بارے میں یہ مقو لہ بہت عام ہےکہ 
ایک سیب روزانہ کھائیں اور معالج سے دور رہیں"۔"

ماہرین غذائیت نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ یہ محض مقولہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ جو لوگ بلا ناغہ ایک سیب کھاتے ہیں ۔صحت ان کے چہرے سے جھلکنے لگتی ہے۔روزانہ ایک سیب کھانے سے ناصرف جسمانی بلکہ ذہنی قوت میں بھی غیر معمولی حد تک اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ نباتات سیب کی غذائیت کو صحت کیلئے اہم ترین جز خیال کرتے ہیں، سیب محض ایک پھل ہی نہیں بلکہ یہ بہترین غذا بھی ہے ' اور حسن کا ذریعہ بھی ' اور اس کے ذائقے کا دارو مدار اس کے استعمال پر ہے۔

سیب کی غذائیت


ماہرین غذائیت کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایک عدد سیب میں فاسفورس کی اتنی مقدار ہوتی ہے جو انسانی جسم کی ضرورت کو فی الفور پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سیب کے چھلکوں میں حیاتین "سی" کا خزانہ محفوظ ہے جو انسان کی جوان العمری قائم رکھنے کیلئے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔سیب کا 2/1 حصہ ٹھوس ہوتا ہے جس میں شکر اور پروٹین ہوتی ہے۔باقی حصہ پانی ہوتا ہے۔

 ایک رسیلے میٹھے اور پکے ہوئے سیب میں 08 فیصد پانی شامل ہوتا ہے۔جس میں تمام توانائی سے بھر پور وٹامنز اور منرلز ہوتے ہیں۔سیب میں حیاتین "اے" کی مقدار سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ حیاتین "بی" تھا یا مین،رائیبوفلاوین اور نایاسنین کی موجودگی بھی سیب کو دیگر پھلوں میں ممتاز کرتی ہے۔

 نشاستہ، فولاد، پروٹین جسم کو قوت عطا کرتے ہیں۔ سیب میں 3۔0ملی گرام فولاد پایا جاتا ہے جو خون کے سرخ خلیات کی کمی پوری کرتا ہے۔ کیلوریز پر مشتمل یہ پھل بعض ایسے معدنی نمکیات کا خزانہ بھی ہےجو جسم کے خلیائی نظام کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس پھل میں ملک ایسیڈ کا ایک ریشہ" پیکٹن" موجود ہے جس کے سبب نظام ِہضم میں بہتری آتی ہے۔

کچا سیب بھی ایک کم کیلوریز کا اسنیک یا میٹھا ہے۔ ایک درمیانے سائز کے سیب میں 70 کیلوریز ہوتی ہیں۔ دیگر پھلوں کی طرح سیب میں بھی وٹامن اور منرلز  ہوتے ہیں ۔ سیب کا جوس وٹامن "سی" سے بھر ہور ہوتا ہے، سیب کے چھلکے میں ریشے کی مثیر مقدار پائی جاتی ہے جو سیب کو جزو خون بننھے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرینِ غذا ئیت سیب کوایک دماغی صحت کا حامل پھل قرار دیتے ہیں ۔یہ پھل مضمحل، اداس اور تھکن کے شکار افراد کو تازہ دم کرسکتا ہے۔ سیب کی غذائیت کے حواللے سے جو اہم نکتہ ہے وہ یہ بھی ہے کہ سیب میں ایسے تیزابی مادے پائے جاتے ہیں جو جگر کے افعال میں بہتری پیدا کرتے ہیں ۔

معمر افراد کیلئے سیب ایک جادوئی دوا کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ فاسفورس کی کثیر مقدار جو ڑ وں کی تکلیف سے نجات کا باعث بنتی ہے اور ساتھ ہی سیب کے اجزاء خون میں جمع ہونے والے مضر مادوں کا خاتمہ کرنے میں معاون بنتے ہیں ۔ تاہم ترش ذائقہ سیب مریضوں کیلئے مفید ثابت نہیں ہوتے۔

سیب بطورِ دوا

محقیقن خشک کھانسی،، بھوک کی کمی ، دبلے پن کیلئے سیب ہی تجویز کرتے ہیں کہ سیب کےروزانہ استعمال سے بیماریوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ جدید تجربات کے بعد یہ احتیاط بھی ضروری سمجبی جاتی ہے کہ سیب کھانے کے فوراََ بعد  پانی پینے سے اجتناب برتنا ضروری ہے کیونکہ معدے میں پانی کی موجودگی سے سیب نظامِ ہاضمہ پر بوجھ ثابت ہوتاہے۔جس سے پیٹ میں درد کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے اور خالی پیٹ صرف سیب کھایا جائے تو بھی اسی نوعیت کی تکلیف ہوسکتی ہے اس لئے عموماََسیب کو پیٹ درد کا موجب سمجھ لیا جاتا ہے لیکن سیب  کھانے کا بہترین وقت صبح ناشتے کے ایک گھنٹے بعد یا دو پہر کھانے کے بعد کا ہے جبکہ سونے سے پہلے بھی سیب کھانا مفید ثابت نہیں ہوتا۔
روزانہ ایک سیب کھانے والے افراد کی مجموعی صحت میں غیر معمولی بہتری کے آثار نظر آنے لگتےہیں۔ وہ عام افراد کے بر عکس کسی قسم کے فلو، زکام اور موسمی بخار کا شکار نہیں ہوتے جبکہ ما ضی میں وہ اسی نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا رہے تھے۔ روزانہ سیب کھانےوالے افراد کے خون میں فرخ خلیات کی مقدار مناسب حد تک بڑھ جاتی ہے جو جسم میں مدافعتی قوت بڑھانے کا سبب بھی ہے۔

سیب کے گودے میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو دانتوں کی بیماریوں کے خاتمے کا سبب بنتے ہیں اور منہ میں پیدا ہونے والے جراثیم کو ہلا ک کردیتے ہیں یہی نہیں بلکہ دانتوں کی چمک اور مسوڑھو کی صحت میں سیب کے معجزاتی اجزاء اہم کردار ادا کرتے ہیں....

Post a Comment